Friday, March 6, 2026

جمہوریت اور جارحیت


"میں تشدد کی مخالفت کرتا ہوں کیونکہ جب یہ بظاہر فائدہ مند نظر آتا ہے تو وہ فائدہ عارضی ہوتا ہے، جبکہ اس سے پیدا ہونے والا شر مستقل ہوتا ہے۔" (گاندھی)

میں چند تاریخی حقائق شیئر کرنا چاہتا ہوں۔

دنیا کی قدیم ترین اور قابلِ فخر جمہوریت، برطانیہ نے 195 میں سے 171 ممالک پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ، اپنے عہدِ تسلط (Hegemony) کے دوران اس نے سینکڑوں جنگیں شروع کیں۔ برطانیہ وہ واحد ملک ہے جس نے امریکہ پر حملہ کیا، اسے فتح کیا اور اس کے دارالحکومت کو آگ لگا دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس تاریخی حقیقت سے واقف ہیں۔

یہ جنگیں درج ذیل مقاصد کے لیے لڑی گئیں:

• دیگر اقوام کو لوٹنے کے لیے ان پر قبضہ اور تسلط۔

• قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے تادیبی مہمات۔

• بندوق اور گولی کے زور پر منشیات (افیون وغیرہ) کو فروغ دینا۔

• تشدد، منشیات یا قحط کے ذریعے کروڑوں اموات کا سبب بننا۔

ایک اور قابلِ فخر جمہوریت، امریکہ نے:

• 1945 سے 2001 کے درمیان دنیا بھر میں ہونے والے 248 تنازعات میں سے 201 میں حصہ لیا یا انہیں شروع کیا۔ یہ تمام مسلح تنازعات کا 81 فیصد بنتا ہے۔

• 100 سے زائد غیر ملکی مداخلتیں کیں۔

• سوویت یونین کے خاتمے کے بعد صورتحال مزید بدتر ہو گئی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے 251 تنازعات شروع کیے یا ان میں شرکت کی۔

میں صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ:

• کیا جمہوریت کی موجودہ رائج شکل میں کوئی ایسی فطری برائی موجود ہے جو اسے انتہائی پرتشدد اور جارحانہ بناتی ہے؟

• کیا ان نام نہاد جمہوریتوں کی موجودگی میں کبھی امن قائم ہو سکتا ہے؟

• کیا یہ جمہوریتیں لالچی سرمایہ داروں (Tycoons) کے لیے اثر و رسوخ، کنٹرول اور دباؤ ڈالنے کے لحاظ سے بہت آسان ثابت ہوئی ہیں؟

• کیا برطانیہ اور امریکہ واقعی جمہوریتیں ہیں؟ یا یہ دولت مندوں کی حکومتیں (Plutocracies) ہیں؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بے رحم اور بدعنوان ارب پتی چلا رہے ہیں جو اپنے مالی مفادات کے لیے دنیا کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

• کیا دنیا انسانیت کی بقا کو لاحق اس خطرے سے مزید دیر تک لاتعلق رہنے کی متحمل ہو سکتی ہے؟

• کیا ہمیں جمہوریتوں کی ازسرِ نو تعریف اور اصلاح نہیں کرنی چاہیے تاکہ انہیں دولت کے بل بوتے پر جوڑ توڑ کرنے والے ان گندے عناصر سے آزاد کرایا جا سکے؟

"تمہیں نہ تو مظلوم بننا ہے، نہ ہی ظالم، لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ تمہیں خاموش تماشائی ہرگز نہیں 

 


No comments:

Post a Comment